

مٹی زمین کی اوپری سطح پر ٹوٹی ہوئی یا بھربھری چٹانیں اور ساتھ ہی سڑے گلے پتّوں کے مادے یا کھاد کا مرکب ہوتی ہے, جو پودوں کی افزائش و کاشت میں بہت اہم ہوتی ہیں. مٹی کے قدرتی طور پر تشکیل پانے میں کئی سال اور صدیاں لگتی ہیں . مٹی کو کاشت کاری اور اس کی زرخیزی کے فوائد کے سبب قدرت کا تحفہ کہا جاتا ہے. یہ نامیاتی اور غیر نامیاتی ہوتی ہے. مٹی کے غیر نامیاتی ہونے سے مراد مٹی میں بے جان چیزوں کا وجود ہے جیسے معدنیات اور چٹانیں جبکہ نامیاتی مٹی میں جاندار چیزوں کی موجوگی مثلا مائکرو آرگنزم کا مٹی میں پایا جانا ہے.مٹی میں شامل مختلف معدنیات اور نامیاتی اجزا اور انکا تناسب اس مٹی میں ایک مخصوص خاصیت پیدا کرتا ہے
مٹی کی شناخت

مٹی کی اقسام

گیلی مٹی
گیلی مٹی ,زرخیز مٹی کی ایک قسم ہے جس میں چکنی مٹی , گارا ، ریت اور گلے ہوئے نامیاتی اجزا شامل ہوتے ہے. اس کی pH سطح 6 ہوتے ہیں . اس میں پانی اور غذائی اجز ا کافی وقت تک جمع رہتے ہیں . جسکی وجہ سے اس کو کاشت کاری یا باغبانی میں بہت زرخیز مٹی مانا جاتا ہے.
اس کی رنگت گہری ہوتی ہے اور یہ ہاتھوں میں نرم ,خشک اور ریزہ ریزہ سی محسوس ہوتی ہے.

ریتلی مٹی
یہ مٹی پیلی بھوری یا براؤن رنگت کی اور سب سے ادنی’ ترین قسم کی ہے . یہ چٹانوں کے ذرات دانے دار بلکل خشک اور کھردرا پن رکھتی ہے . پانی کو اپنے اندر جذبنہیں کر پاتی پانی فورا اسے الگ ہو جاتا ہے. پودے کی جڑیں بھی اس میں ٹہر پاتیں نہ ہی یہ کوئی غذائت کو اپنےا ندر جمع کر پاتیں. اس لئے پودے نمو یا بڑھنے میں ان کا کوئی کردار ہوتا.

چونا مٹی
چونا مٹی ہی بہت زیاد خشک اور پودے ک زیر زمین نمو میں بہت زیاہ رکاوٹ کا باعث ہوتی ہے. ان میں کلشیم کربونیٹ ہوتا ہے اس وجہ سے اسکی رنگت بھی سفید ہوتی ہے. اس کو فصلوں کی کاشت یا پودوں کی نمی کے لئے مناسب نہیں سمجھا جاتا. بہت زیادہ چونا اور پانی کی کمی سے اس کی pH بھی 7.5 رہتی ہے جسکے باعث پودے بھی پیلے ہوتے ہیں اور
نشو نوما بھی نہیں پاتے.

چکنی مٹی
چکنی مٹی ایک طرح کی انوکھی مٹی ہے یہ بہت ہی باریک ذرات ہوتی ہے . اس کی خصوصیت یہ ہے کے اس میں بہت زیادہ مقدار میں غذائی اجزا اور پانی ہوتا ہے کیونکہ ہوا کا یا نمی کا اس میں داخل ہونا بہت مشکل ہے. گیلی چکنی مٹی عام طور پر باغبانی کے لئے موزوں نہیں ہوتی مگر خشک نرم اور ہموار ہونے کی وجہ سے خزاں اور بہار کے موسموں میں باغبانی میں مدد کرتی ہے کیونکہ یہ ان موسموں میں خشک ہو جاتی ہے تو اس پر کھاد ڈال کر سردیوں میں مٹی کو جمنے سے بچایا جا سکتا ہے.

گارا مٹی
یہ مٹی چکنی مٹی , دلدلی کیچڑ یا جھیل , دریا کے کنارے چھوٹے کنکروں پر مشتمل ہوتی ہے . جب پانی زیادہ ملتا ہے تو جھاگ جیسی نرم ہو جاتی ہے. اس وجہ سے یہ انتہائی ہمواراور اپنے اندر پانی بھر لیتی ہے یہ اچھی خاصی زرخیز ہوتی ہے مگر دوسری زرخیز مٹی کی قسموں سے کم مقدار میں کو جمع کر پاتی ہے. یہ کاشت کاری یا فارمنگ کے لئے موزوں ترین ہوتی ہے.

مٹی کی شناخت کے طریقے
نچوڑ ٹیسٹ
یہ ٹیسٹ کچھ مٹی ہا تھ میں پکڑ کر اسے نچوڑ کیا جاتا ہے. اگر یہ چکنا اور پتلا ہے تو اس میں گیلی مٹی کی زیادہ مقدار ہوتی ہے۔ اگر یہ دانے دار ہے تو ممکن ہے کہ اس میں ریتیلی مٹی کی مقدار ذیادہ ہے۔
.i
ربن ٹیسٹ
ربن ٹیسٹ میں ، اگر کھڑی چھڑی مٹی کا استعمال کرتے ہوئے بنائی جا سکتی ہے تو اس میں گیلی مٹی کی مقدار زیادہ ہے۔ اگر ڈنڈی بنائی جا سکے لیکن جب اسے سیدھا کھڑا کیا جائے تو ربن ٹوٹ جائے تو اس مٹی کا 50٪ حصہ گیلی مٹی پر مشتمل ہوتا ہے۔ اور اگر مٹی کو ربن کی شکل نہ دی جا سکے تو اس مٹی میں 50٪ سے زیادہ ریت شامل ہے۔
.ii
مرتبان ٹیسٹ
یہ ٹیسٹ کرنے کے لیے ، اپنے باغ میں متعدد جگہوں سے مٹی لیں اور نمونوں کو ایک برتن میں ملائیں۔ پھر ان مراحل پر عمل کریں:
مٹی کو ایک ہموار سطح پر خشک ہونے دیں جب تک کہ وہ ٹوٹ نہ جائے۔
کوئی جڑیں ، پتھر یا ملبہ ہٹا دیں اور اسے پاؤڈر کی شکل دے دیں۔
مٹی کے ذرات کو الگ کرنے میں مدد کے لیے برتن کو دو تہائی پانی سے بھریں اور ایک چٹکی نمک (یا 1 چائے کا چمچ ) شامل کریں۔ زور سے ہلائیں۔ اب پانی اور مٹی کو مختلف تہوں میں بسنے دیں۔
نیچے کی تہہ کے لیے ریت چند منٹ کے اندر بیٹھ جائے گی۔ کچھ گھنٹوں کے بعد ، گند حل ہو جائے گا۔ آپ کو ریت کے بڑے ذرات اور چھوٹے مٹی کے ذرات کے درمیان ایک واضح فرق دیکھنے میں نظر آئے گا۔ مٹی کو حل ہونے میں کئی دن بھی لگ سکتے ہیں۔